تحریک طالبان کے تین گرفتار شدت پسندوں نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کے لئے بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ حال ہی میں وجود میں آنے والی افغان خفیہ ایجنسی ”رام“ کے ذریعے مدد فراہم کر رہی ہے۔ اب تک ”را“ 68 کروڑ روپے ”رام“ کے ذریعے دہشت گردوں تک پہنچا چکی ہے۔ ان شرپسندوں کے مطابق پاکستان میں اب تک جتنے بھی خودکش حملے ہوئے ہیں ان میں ”را“ کے تیار کردہ خودکش بمبار استعمال ہوئے ہیں۔ آبپارہ مارکیٹ، لاہور ہائی کورٹ، ماڈل ٹاؤن اور نیول وار کالج کی بس میں بھی ”را“ کے خودکش بمباروں نے حملے اور دھماکے کئے جن کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لئے دہشت گرد عناصر کی مکمل طور پر پشت پناہی کر رہا ہے۔ان دہشت گردوں نے اعتراف کیا ہے کہ وہ ”را“ سے رقم لیتے ہیں۔ ”را“ براہ راست افغان انٹیلیجنس ایجنسی کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں بھارتی خفیہ اداروں کے ملوث ہونے کی خبریں پہلے بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ ماضی میں کئی بھارتی ایجنٹ پکڑے جا چکے ہیں اور جرم ثابت ہونے پر انہیں عدالتوں سے سزا بھی سنائی جاتی رہی ہے۔افغانستان میں موجود بھارتی قونصل خانوں کے کردار کا بھی ذکر کیا جاتا رہا ہے اور اب تو پاکستان میں دہشت گرد عناصر کی مدد کرنے میں افغانستان کی خفیہ ایجنسی کا بھی کردار سامنے آ گیا ہے، جو بھارت اور افغانستان کی پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی مشترکہ سازش کا واضح اشارہ دیتا ہے۔ بھارت کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی ”را“ کی جنوبی ایشیا اور خاص طور پر پاکستان کے خلاف ریشہ دوانیوں سے سب ہی آگاہ ہیں، لیکن افغانستان کی نو آموز خفیہ ایجنسی ”رام“ دنیا کے لئے ایک نیا نام ہے اور لوگ اس کی کارروائیوں سے ابھی پوری طرح واقف نہیں ہیں۔ افغانستان کی پرانی خفیہ ایجنسی ”خاد“ افغانستان پر افغان مہاجرین اور طالبان کے قبضے کے بعد تاریخ کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں گم ہو چکی ہے۔ افغانستان پر کرزئی حکومت کے قیام کے بعد ”را“ نے ہندو دیوتا ”رام“ کے نام پر افغان خفیہ ایجنسی راہ کی بنیاد رکھی، جس کے فرائض اور مقاصد وہی ہیں جو را کے ہیں۔ افغان ایجنسی ”رام“ اور بھارت کی خفیہ ایجنسی ”را“ میں نام کے علاوہ بھی بہت سی چیزیں مشترک ہیں۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کے بہت سے ایجنٹ ”رام“ کے لئے بھی کام کرتے ہیں۔ ”را“ نو آموز ”رام“ کو ہر قسم کا تعاون اور سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ افغانستان کے اندر اور باہر خفیہ آپریشنز میں عملی مدد تک فراہم کر رہی ہے۔ دوسرے الفاظ میں افغان ایجنسی ”رام“ دراصل بھارتی ایجنسی ”را“ کا ذیلی ونگ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان ”را“ کی ریشہ دوانیوں کا سب سے بڑا شکار ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقوں میں ملوث ہونے سے قبل ”را“ کے ایجنٹ بلوچستان میں خوب سرگرم رہے اور اب بھی وہاں کے معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔ افغانستان میں اپنے زیادہ عمل دخل کے بعد بھارت نے افغانستان میں پاکستان کی سرحد کے ساتھ اپنے متعدد قونصل خانے قائم کر رکھے ہیں۔ ان قونصل خانوں کے قیام کا مقصد پاکستان میں تخریبی کارروائیوں کو آگے بڑھانے اور شرپسندوں کی حوصلہ افزائی کر نا ہے۔ اس کے متعدد ثبوت بھی منظر عام پر آچکے ہیں کہ قبائلی علاقوں میں طالبان اور شرپسندوں کے پیچھے دراصل ”را اور رام“ کے خفیہ ہاتھ ہیں جو ان کی ہر طرح سے پشت پناہی کرتے ہیں۔ یہ قونصل خانے ایک منظم طریقے سے انہیں رقوم، اسلحہ، خودکش حملوں کی تربیت اور دھماکہ خیز مواد سب کچھ فراہم کرتے ہیں۔ حقیقت میں یہی قونصل خانے دہشت گردوں کے تربیتی کیمپ چلاتے ہیں اور دہشت گردوں کو منشیات سے حاصل ہونے والی رقوم دے کر پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کے لئے داخل کر دیتے ہیں۔ حال ہی میں پاک فوج اور سیکورٹی کے اداروں نے جو شرپسند پکڑے ہیں ان میں دو سو کے لگ بھگ غیر مسلم ہیں، جنہوں نے قبائلیوں کا روپ دھارا ہوا تھا۔ سیکورٹی فورسز سے جھڑپوں میں طالبان کے حلئے میں ہلاک ہونے والے متعدد افراد کے بارے میں چشم کشا انکشافات ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والے افراد کو جب مقامی قبائلیوں نے دفن سے پہلے غسل دیا تو یہ بات سامنے آئی کہ مرنے والے غیر مسلم ہیں۔ جنوبی وزیرستان میں بہت سے خودساختہ ایسے مذہبی عالموں کی موجودگی کے بھی انکشافات ہوئے ہیں جو برین واشنگ کر کے غریب عوام کے بچوں کو خودکش دھماکوں کے لئے تیار کرتے ہیں۔ پاکستان میں ”را اور رام“ کے مکروہ کھیل کی تصدیق اس سے بھی ہوتی ہے کہ جنوبی وزیرستان کے کئی علاقوں میں پاکستانی کرنسی پر پابندی ہے۔وہاں زیادہ تر بھارتی اور امریکی کرنسی میں ہی کاروبار ہوتا ہے۔ یہ بات بھی اب میڈیا کے سامنے آ چکی ہے کہ جنوبی وزیرستان اور شمالی علاقہ جات میں پاکستانی سیکورٹی فورسز پر جو حملے کئے جا رہے ہیں اور مذہب کے نام پر جو جنگ لڑی جا رہی ہے وہ دراصل غیر ملکی ایجنسیوں کے دیئے گئے پیسے اور اسلحے کی بنا پر لڑی جا رہی ہے۔ ”رام اور را“ کے مکروہ کھیل سے پاکستان میں دہشت گردی اور بد امنی کی جو فضا قائم ہوئی ہے وہ اس بات کی متقاضی ہے کہ اس معاملے کو سفارتی سطح پر اٹھایا جائے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ بند کمرے کے اجلاس میں بھی اسی نوع کے انکشافات کی اطلاع ہے۔ یہ ایسی صورت حال ہے جسے برداشت کرنا ملک کے مفاد میں نہیں ہو گا۔ حکومت کو چاہئے کہ اس بارے میں حاصل شدہ ثبوت اور حقائق کی بنیاد پر بھارت اور افغانستان سے بھرپور احتجاج کرے۔ اس کے ساتھ دنیا کو بھی دونوں ممالک کی پاکستان کے خلاف سازشوں کو بے نقاب کرنے کے سلسلے میں سنجیدہ اقدامات کئے جائیں تاکہ دنیا پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے والے اصل چہرے بے نقاب ہو سکیں۔
Thursday, 10 May 2012
را اور رام کے کھیل
تحریک طالبان کے تین گرفتار شدت پسندوں نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کے لئے بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ حال ہی میں وجود میں آنے والی افغان خفیہ ایجنسی ”رام“ کے ذریعے مدد فراہم کر رہی ہے۔ اب تک ”را“ 68 کروڑ روپے ”رام“ کے ذریعے دہشت گردوں تک پہنچا چکی ہے۔ ان شرپسندوں کے مطابق پاکستان میں اب تک جتنے بھی خودکش حملے ہوئے ہیں ان میں ”را“ کے تیار کردہ خودکش بمبار استعمال ہوئے ہیں۔ آبپارہ مارکیٹ، لاہور ہائی کورٹ، ماڈل ٹاؤن اور نیول وار کالج کی بس میں بھی ”را“ کے خودکش بمباروں نے حملے اور دھماکے کئے جن کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لئے دہشت گرد عناصر کی مکمل طور پر پشت پناہی کر رہا ہے۔ان دہشت گردوں نے اعتراف کیا ہے کہ وہ ”را“ سے رقم لیتے ہیں۔ ”را“ براہ راست افغان انٹیلیجنس ایجنسی کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں بھارتی خفیہ اداروں کے ملوث ہونے کی خبریں پہلے بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ ماضی میں کئی بھارتی ایجنٹ پکڑے جا چکے ہیں اور جرم ثابت ہونے پر انہیں عدالتوں سے سزا بھی سنائی جاتی رہی ہے۔افغانستان میں موجود بھارتی قونصل خانوں کے کردار کا بھی ذکر کیا جاتا رہا ہے اور اب تو پاکستان میں دہشت گرد عناصر کی مدد کرنے میں افغانستان کی خفیہ ایجنسی کا بھی کردار سامنے آ گیا ہے، جو بھارت اور افغانستان کی پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی مشترکہ سازش کا واضح اشارہ دیتا ہے۔ بھارت کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی ”را“ کی جنوبی ایشیا اور خاص طور پر پاکستان کے خلاف ریشہ دوانیوں سے سب ہی آگاہ ہیں، لیکن افغانستان کی نو آموز خفیہ ایجنسی ”رام“ دنیا کے لئے ایک نیا نام ہے اور لوگ اس کی کارروائیوں سے ابھی پوری طرح واقف نہیں ہیں۔ افغانستان کی پرانی خفیہ ایجنسی ”خاد“ افغانستان پر افغان مہاجرین اور طالبان کے قبضے کے بعد تاریخ کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں گم ہو چکی ہے۔ افغانستان پر کرزئی حکومت کے قیام کے بعد ”را“ نے ہندو دیوتا ”رام“ کے نام پر افغان خفیہ ایجنسی راہ کی بنیاد رکھی، جس کے فرائض اور مقاصد وہی ہیں جو را کے ہیں۔ افغان ایجنسی ”رام“ اور بھارت کی خفیہ ایجنسی ”را“ میں نام کے علاوہ بھی بہت سی چیزیں مشترک ہیں۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کے بہت سے ایجنٹ ”رام“ کے لئے بھی کام کرتے ہیں۔ ”را“ نو آموز ”رام“ کو ہر قسم کا تعاون اور سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ افغانستان کے اندر اور باہر خفیہ آپریشنز میں عملی مدد تک فراہم کر رہی ہے۔ دوسرے الفاظ میں افغان ایجنسی ”رام“ دراصل بھارتی ایجنسی ”را“ کا ذیلی ونگ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان ”را“ کی ریشہ دوانیوں کا سب سے بڑا شکار ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقوں میں ملوث ہونے سے قبل ”را“ کے ایجنٹ بلوچستان میں خوب سرگرم رہے اور اب بھی وہاں کے معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔ افغانستان میں اپنے زیادہ عمل دخل کے بعد بھارت نے افغانستان میں پاکستان کی سرحد کے ساتھ اپنے متعدد قونصل خانے قائم کر رکھے ہیں۔ ان قونصل خانوں کے قیام کا مقصد پاکستان میں تخریبی کارروائیوں کو آگے بڑھانے اور شرپسندوں کی حوصلہ افزائی کر نا ہے۔ اس کے متعدد ثبوت بھی منظر عام پر آچکے ہیں کہ قبائلی علاقوں میں طالبان اور شرپسندوں کے پیچھے دراصل ”را اور رام“ کے خفیہ ہاتھ ہیں جو ان کی ہر طرح سے پشت پناہی کرتے ہیں۔ یہ قونصل خانے ایک منظم طریقے سے انہیں رقوم، اسلحہ، خودکش حملوں کی تربیت اور دھماکہ خیز مواد سب کچھ فراہم کرتے ہیں۔ حقیقت میں یہی قونصل خانے دہشت گردوں کے تربیتی کیمپ چلاتے ہیں اور دہشت گردوں کو منشیات سے حاصل ہونے والی رقوم دے کر پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کے لئے داخل کر دیتے ہیں۔ حال ہی میں پاک فوج اور سیکورٹی کے اداروں نے جو شرپسند پکڑے ہیں ان میں دو سو کے لگ بھگ غیر مسلم ہیں، جنہوں نے قبائلیوں کا روپ دھارا ہوا تھا۔ سیکورٹی فورسز سے جھڑپوں میں طالبان کے حلئے میں ہلاک ہونے والے متعدد افراد کے بارے میں چشم کشا انکشافات ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والے افراد کو جب مقامی قبائلیوں نے دفن سے پہلے غسل دیا تو یہ بات سامنے آئی کہ مرنے والے غیر مسلم ہیں۔ جنوبی وزیرستان میں بہت سے خودساختہ ایسے مذہبی عالموں کی موجودگی کے بھی انکشافات ہوئے ہیں جو برین واشنگ کر کے غریب عوام کے بچوں کو خودکش دھماکوں کے لئے تیار کرتے ہیں۔ پاکستان میں ”را اور رام“ کے مکروہ کھیل کی تصدیق اس سے بھی ہوتی ہے کہ جنوبی وزیرستان کے کئی علاقوں میں پاکستانی کرنسی پر پابندی ہے۔وہاں زیادہ تر بھارتی اور امریکی کرنسی میں ہی کاروبار ہوتا ہے۔ یہ بات بھی اب میڈیا کے سامنے آ چکی ہے کہ جنوبی وزیرستان اور شمالی علاقہ جات میں پاکستانی سیکورٹی فورسز پر جو حملے کئے جا رہے ہیں اور مذہب کے نام پر جو جنگ لڑی جا رہی ہے وہ دراصل غیر ملکی ایجنسیوں کے دیئے گئے پیسے اور اسلحے کی بنا پر لڑی جا رہی ہے۔ ”رام اور را“ کے مکروہ کھیل سے پاکستان میں دہشت گردی اور بد امنی کی جو فضا قائم ہوئی ہے وہ اس بات کی متقاضی ہے کہ اس معاملے کو سفارتی سطح پر اٹھایا جائے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ بند کمرے کے اجلاس میں بھی اسی نوع کے انکشافات کی اطلاع ہے۔ یہ ایسی صورت حال ہے جسے برداشت کرنا ملک کے مفاد میں نہیں ہو گا۔ حکومت کو چاہئے کہ اس بارے میں حاصل شدہ ثبوت اور حقائق کی بنیاد پر بھارت اور افغانستان سے بھرپور احتجاج کرے۔ اس کے ساتھ دنیا کو بھی دونوں ممالک کی پاکستان کے خلاف سازشوں کو بے نقاب کرنے کے سلسلے میں سنجیدہ اقدامات کئے جائیں تاکہ دنیا پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے والے اصل چہرے بے نقاب ہو سکیں۔
Sunday, 8 January 2012
الیکٹرونک جنگ
الیکٹرونک جنگ
اب برقی مقناطیسی میدان پر قبضہ جنگوں میں فتح و شکست کا فیصلہ کرے گا
''ایک افسر
کو حکومت جنرل بناتی ہے' لیکن یہ پیغام رسانی (کمیونیکیشن) ہی ہے جو اسے کمانڈر کا
رتبہ عطا کرتی ہے''۔ (جنرل عمر بریڈلے'
پہلے امریکی چیئرمین آف دی جوائنٹ چیف آف سٹاف)
٭ ٭
جولائی 2006 ء میں جب اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں حزب
اللہ کے ٹھکانوں پر حملہ آور ہوئی' تو اس سے قبل اسرائیلیوں نے اپنی دانست میں بڑااہم
قدم اٹھایا ۔ ہوا یہ کہ انہوں نے لبنانی
فضاؤں میں اپنے وہ جنگی اورلڑاکا جہاز بھجوادیئے جن میں ہر قسم کی پیغام رسانی.....
ریڈیو ، ریڈار، موبائل اور وائرلیس نیٹ ورکنگ وغیرہ جام
کرنے کے جدید آلات نصب تھے۔ مدعا یہ تھا کہ مختلف علاقوں میں موجود حزب اللہ کے
گوریلوں کا باہمی رابطہ ٹوٹ جائے۔
لیکن اسرائیلی فوج کو یہ جان کر دھچکا لگا کہ ہر علاقے میں
لبنانی گوریلےان کی آمد سے پہلے ہی واقف ہوتے۔ چناچہ دوران جنگ اسرائیلیوں کو اچھا
خاصا جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ عالمی سطح پر سبکی الگ ہوئی کہ مٹھی بھر گوریلوں نے دنیا کی اعلیٰ تربیت یافتہ فوج کی مٹی پلید کردی۔ آخر کار اسرائیلی جنگ ختم کرنے پر مجبور
ہوگئے۔
بعد ازاں انکشاف ہوا کہ ''الیکٹرونک فنٍ جنگ '' (Electronic warfare) کے ایرانی ماہرین حزب اللہ کی صفوں
میں موجود تھے۔ انہوں نے اینٹی جامرآلات کی مدد سے اسرائیلی الیکٹرونک حملے کو
ناکام بنادیا۔ چناچہ گوریلوں کے بیشتر ریڈیو اور ریڈار کام کرتے رہے اور ان کا آپس
میں رابطہ رہا۔ اسی صلاحیت نے انہیں اس قابل بنادیا کہ اپنے سے کہیں زیادہ طاقتور
دشمن کے دانت کھٹے کرسکیں۔
جولائی 2006ء کی حزب اللہ۔ اسرئیل جنگ پہلا موقع تھاجب یہ
حقیقت سامنے آئی کہ الیکٹرونک جنگ کے تجربے کار ماہرین ایک چھوٹی طاقت کو بھی یہ صلاحیت بخشتے ہیں کہ
وہ بڑی طاقت کو شکست دے سکے۔ الیکٹرونک جنگ لڑائی کا ایک جدید طریقہ کار ہے۔ اسے
پچھلے دس برس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے زبردست فروغ کی وجہ سےعروج ملا۔شبعۂ جنگ
کا ہدف حریف افواج کا باہمی رابطہ ہے تاکہ اسے مفلوج کردیا جائے۔ ظاہر ہے، قصور کے
محاذ پر نبردآزما پاک فوج کا سیالکوٹ یا لاہور کے محاذوں پر لڑتے ساتھیوں یا فضائی
شاہینوں سے رابطہ ختم ہوجائے، تو وہ خود
کو حملہ آوروں کے رحم و کرم پر پائے گی۔
الیکٹرونک جنگ سے
مختلف قسم کام لیے جاتے ہیں، مثلاً دشمن کے میزائیلوں کا رخ موڑدینا، دشمنوں کے
ریڈیو اور کمپیوٹروں کو جھوٹی اور غلط معلومات فراہم کرنا، اپنے متعلق فرضی دینا
وغیرہ۔ یہ الیکٹرونک جنگ جنگی ہوائی جہازوں، بحری جہازوں یا بکتربند گاڑیوں پر نصب
ایسے جدیدترین آلات(جامروں) کے ذریعے لڑی جاتی ہےجو ہر قسم فضائی ذرائع پیغام
رسانی مثلاً ریڈیو، وائرلیس، ریڈار، سینسر، جی پی ایس ریسیور، موبائل اور ٹی وی
نشریات جام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ امریکی ماہرین اب تو ایسے آلات بھی ایجاد
کرنے کی کوشش میں ہیں جو مخصوص دائرے میں ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی نشریات بھی جام
کردیں گے۔ غرض الیکٹرونک جنگ کا شعبہ عسکری میدان میں تھوڑے عرصے میں غیر معمولی
اہمیت اختیار کرگیا۔ کیونکہ یہ ایک ملک کی ساری افواج کو مفلوج کرنے کی صلاحیت
رکھتا ہے۔
2011ء میں پاکستانیوں
نے بھی دو بار الیکٹرونک جنگ کا مزہ چکھا۔ پہلی بار مئی میں امریکی ہیلی کاپٹر بعض
پاکستانی ریڈار جام کرکےاسامہ تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔
دوسری بار ماہ نومبر میںجب نیٹو ہیلی کاپٹروں نے پاکستانی
چوکی پر حملہ کیا۔ ان ہیلی کاپٹروں میں ریڈار اور کمیونیکیشن جام کرنے والے آلات
نصب تھے۔ ان حملوں سے یہ فائدہ ضرور ہوا
کہ پاک افواج کو الیکٹرونک جنگ کی اہمیت و ضرورت کا احساس ہوگیا۔
حقیقت یہ کہ مستقبل میں جو ملک الیکٹرونک جنگ کی جتنی جدید
ٹیکنالوجی اور ماہرین رکھے گا ، عالمی سطح
اور میدان جنگ میں اسی کا پلہ اتنا ہی بھاری ہوگا۔ یہی وجہ کہ بڑی طاقتوں مثلاً امریکہ، چین ، روس ، بھارت، برطانیہ اور فرانس میں الیکٹرونک جنگ
باقاعدہ تعلیم کا شعبہ بن چکا ہے۔ ایسا پہلا سکول 2006ء میں امریکیوں نے اپنے فوجی
مستقر، فورٹ سل ( ریاست اوکلوہاما ) میں کھولا۔
امریکی چاہتے ہیں کہ 2013ء تک الیکٹرونک جنگ لڑنے کے
انتہائی ماہر سولہ سو فوجی تیار کر لیے جائیں۔
الیکٹرونک جنگ میں '' برق مقناطیسی طیف '' (Electromagnetic spectrum) کو نشانہ بنایا جاتا
ہے۔ یہ وہ طیف ہے جس میں سات برقی مقناطیسی شعائیں…… گیما، ایکس ریز، بنفشی (
الٹراوائلٹ) ، روشنی انفراریڈ، مائکروویوز اورریڈیائی لہریں سفر کرتی ہیں۔ چونکہ ان تمام شعاعوں یا لہروں میں ریڈیائی لہریں سب
سے دور جاتی ہیں اور انہی کی فریکوئنسی بھی کم ہے، لہٰذا تمام ریڈیو ، ریڈار،
وائرلیس سسٹم، موبائل، ٹیلی فون وغیرہ ان کے ذریعے کام کرتے ہیں۔ تاہم امریکہ و
بعض یورپی ممالک کی افواج نےایسے عسکری
آلات بھی ایجاد کیے ہیں جو انفرا ریڈاور مائکروویوز کی مدد سے کام انجام دیتے ہیں۔
عسکری سطح پر ریڈار
کمیونیکیشن کے دیگر آلات جام کرنے والا سب سے مہلک ہتھیار فی الوقت امریکیوں کا EA-18G گرولر طیارہ ہے۔ اس کے پروں تلے ایسے ریڈار، انٹینے
اور دیگر ہائی ٹیک آلات نصب ہیں جو سب سے پہلے حریف کے ریڈار تلاش کرتے ہیں۔ بعد
ازاں وہ وہاں سے آنے والے ریڈیائی سگنل جام کردیتے ہیں۔ اگر ریڈاروں کی فریکوئنسی
بدلی جائے تو، گرولر کے آلات وہی نمونہ اختیار کرلیتے ہیں تاکہ وہ کسی صورت کام نہ
کرسکیں۔ غرض گرولر کا یہ کام ہےکہ وہ برق مقناطیسی طیف پر قبضہ کرکے دشمن کو کو
وہاں کسی بھی جگہ ٹکنے نہ دے۔ کل
سازوسامان سے لیس ایک گرولر طیارے کی قیمت سات کروڑ چالیس لاکھ ڈالر ( تقریباً 652 کروڑ
روپے) ہے۔
ایک ماہر عسکریات ، پیٹرسنگر کہتا ہے '' قدیم زمانے میں
لڑائی نیزوں اور تلواروں سے لڑی جاتی تھی۔ پھر بارود، توپیں اور رائفلیں آگئیں۔ اب
ریڈیائی لہریں اور کمپیوٹر کوڈ بنیادی ہتھیار بن چکے ہیں۔ یہ علم حرب و فنون کے
ارتقا کی فطری شکل ہے''۔
پاک افواج کو چاہیئے کو کہ وہ بھیالیکٹرونک فن جنگ کو اہمیت
دیں۔ ویسے بھی ہمارا مقصد جارحیت نہیں دفاع ہے۔ چنانچہ پاکستانی ماہرین کو دوست
ممالک چین اور ترکی کے ساتھ مل کرجدید ترین اینٹی جامنگ آلات بنانا ہوں گے، ایسے
آلات جو فوجی اور سول پیغام رسانی جام کرنے والےآلات کا توڑ ثابت ہوں اور انہیں
اپنا کام نہ کرنے دیں۔ اس شعبے میں چینی خاصی ترقی کر چکے ہیں جن سے ہماری لازوال
دوستی ہے۔
فی الوقت الیکٹرونک کی سب سے بڑی قوت امریکہ ہے۔ دراصل اس
کے پاس جدید جامروں سے لیس دیو ہیکل جہاز موجود ہیں۔ امریکیوں کے بحری جہاز بھی ریڈار
جام رکھنے والے طاقتور جامر رکھتے ہیں۔ واضح رہے، بعض عسکری ماہرین کا دعویٰ ہے کہ
اسامہ بن لادن کےخلاف آپریشن میں EC-130H کمپاس کال نے حصہ لیا تھا۔اسی کی مدد سے پاکستانی ریڈار
ناکارہ بنائے گئے۔
مستقبل کی جنگوں میں مواصلاتی سیارے (سٹیلائٹ) بھی اہم
کردار ادا کریں گے۔ اسی لیے ان کے ذریعے ہونے والی پیغام رسانی جام کرنے کی
خاطر جی پی ایس جامر سامنے آئے۔ ان جامروں
نے 2003 ء میں عراق عراق پر حملے کے دوران امریکیوں کو خاصا پریشان کیا تھا۔ دراصل
امریکی سمجھ ہی نہیں سکےکہ ٹام ہاک کروز میزائل نشانے پر کیوں نہیں بیٹھ رہے ؟ (یہ
کروز میزائلمواصلاتی سیارے کے ذریعے رہنمائی حاصل
کرتا ہے)۔ آخر ایک عراقی غدار نے
انہیں اطلاع دی کہ عراقی فوج نے جی پی ایس
جام کرنے والے روسی آلات لگارکھے ہیں۔ چنانچہ امریکیوں نےکارپٹ بمباری کرکے تمام
جامر تباہ کردیئے۔ اس کے بعد تمام میزائل درست نشانے پر گرنے لگے۔
اس مضمون کا حاصل یہی ہے کہ مستقبل کی جنگوں میں الیکٹرونک
جنگ ہی جیت یا ہار کا فیصلہ کرے گی۔ چنانچہ یہ وقت کی پکار ہےکہ ہماری بری، فضائی اور بحری افواج مل کر الیکٹرونک جنگ لڑنے
میں کم ازکم اتنی طاقت ور ضرور ہوجائیں کہ کسی بھی دشمن کو منہ توڑ جواب دےسکیں۔
لہٰذا ضروری ہےکہ ایسا تعلیمی ادارہ کھولا جائےجہاں ہمارے جوان الیکٹرونک جنگ لڑنے
کی تعلیم و تربیت حاصل کریں۔ نیز اس سے متعلق جدید آلات و سامان خریدنےاور
خود تیار کرنے کی طرف بھی توجہ دی جائے۔ اس شعبہ میں بھارتی ہم سے خاصا آگے ہیں۔
google-site-verification: google3e72267aa52354fc.html
Subscribe to:
Posts (Atom)